منگلورو:16؍ ستمبر(ایس اؤ نیوز) گجرات فسادات کے دوران حاملہ بلقیس بانو کی عصمت دری کرنے والے اور ان کے خاندان والوں کا قتل عام کرنے والے معاملے میں سزایافتہ 11مجرموں کو گجرات حکومت کی طرف سے رہا کئے جانے کی مذمت کرتےہوئے مہیلا دورجنیا ورودھی ویدیکےکی جانب سے شہر کے کلاک ٹاور کے روبرو احتجاج کیاگیا ۔
کراولی لیکھکییئر متو واچکیئر سنگھ ، سہودیا ، بھلو مہیلا منڈل، مہیلا منڈل وکوٹا منگلورو، تعلیمی وسائل مرکز، فارورڈ ٹرسٹ، ڈی سی سی ڈبلیو ، یوا منڑے ، سنچلن، کرناٹک راجیا مہیلا دورجنیا ورودھی وکوٹا، ویلفئیر پارٹی آف انڈیا دکشن کنڑا ضلعی شاخ، انڈین کمیونسٹ اکٹی ویسٹ نیٹ ورک، نینشل ومنس فرنٹ کرناٹک، ومن انڈیا مومنٹ کرناٹکا، کراولی مہیلا حقو گل رکشھنا ویدیکے ، جماعت اسلامی ہند شعبہ خواتین، جیون دھارا اور تریکٹ کمٹ سنگھ ، گرامین کولی کارمیکر سنگھ کی قیادت میں خواتین نے سیاہ کپڑے پہن کر احتجاج کرتےہوئے اپنی برہمی کااظہارکیا۔
بلقیس بانو کو انصاف دلانےکےلئے ضروری ہےکہ رہا کئےگئے11مجرموں کو دوبارہ جیل بھیج دیا جائے ۔ اسی طرح پوکسو معاملےمیں گرفتار ہوئے مرگھا مٹھ کے شیو مورتی کو سخت سزا دی جائے ۔ عصمت دری کا شکار ہونے والی متاثرین کو قانون کے مطابق معاوضہ فوری طورپر دیا جائے ،اسی طرح کے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم ڈی سی کو دیاگیا۔
احتجاج کا افتتاح کرتےہوئے اکھیل بھارت بھلوا مہیلا سنگھ کی جنرل سکریٹری سکھلاکشی سورنا نے خواتین پر ہونے والے جسمانی ظلم، ظلم کی انتہا ہے۔ ظلم اور جسمانی لذت والی ذہنیت نہیں بدل سکتی ، ایسی رذیل کرتوت کرنے والوں کو معاف کرنا انسانیت کے ساتھ دھوکہ کرنےکے مترادف ہے۔ سکھلاکشی نے کہاکہ چتردرگہ مرگھا مٹھ کے شیومورتی پر ہاسٹل کی نابالغ دلت لڑکیوں پر جسمانی ظلم کرنے کا الزام ہے۔ ایس سی ، ایس ٹی قانون اور پوکسو کے تحت درج ہونےو الے کیس میں فوری گرفتاری ہونی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ریاستی حکومت کو متاثرہ دلت لڑکیوں کے حق میں کھڑا ہونا چاہئےتھا اس کے برعکس ملزموں کی حمایت کرتےہوئے پوکسو جیسے قانون کو برباد کرنا قابل افسوس و قابل مذمت ہے۔ بی ایم روہنی ، گلابی بلیملے، صبیحہ فاطمہ ، شاکرہ بانو، شہناز نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ پرگنیا صلاح کیندر کی پروفیسر ہلڈا رائیپا نے اختتامی کلمات پیش کئے ۔ وانی پیروڑی نے نظامت کی۔